غُسل کا طریقہ (حنفی)
بِغیرزَبان ہِلائے دل میں اِس طرح نیّت کیجئے کہ میں پاکی حاصِل کرنے کیلئے غسل کرتاہوں۔پہلے دونوں ہاتھ پہنچوں تک تین تین بار دھوئیے ، پھراِستِنجے کی جگہ دھوئیے خواہ نَجاست ہویانہ ہو،پھرجِسم پراگرکہیں نَجاست ہوتو اُس کودُورکیجئےپھرنَمازکاساوُضوکیجئے مگرپاؤں نہ دھوئیے،ہاں اگرچَوکی وغیرہ پر غسل کررہے ہیں توپاؤں بھی دھولیجئے،پھربدن پرتیل کی طرح پانی چُپَڑلیجئے ، خُصو صاً سرد یوں میں (اِس دَوران صابُن بھی لگاسکتے ہیں )پھرتین بار سید ھے کندھے پرپانی بہایئے،پھرتین باراُلٹے کندھے پر، پھرسر پراورتمام بدن پرتین بار، پھر غسل کی جگہ سے الگ ہوجائیے،اگروُضوکرنے میں پاؤں نہیں دھوئے تھے تواب دھو لیجئے ۔نَہانے میں قِبلہ رُخ نہ ہوں ،تمام بدن پرہاتھ پَھیر کرمل کرنہائیے۔ایسی جگہ نہانا چاہئے جہاں کسی کی نظر نہ پڑے اگریہ ممکِن نہ ہوتومَرد اپناسِتر(ناف سے لے کر دونوں گُھٹنوں سَمیت)کسی موٹے کپڑے سے چھپالے،موٹاکپڑانہ ہوتوحَسبِ ِضَرور ت دو یا تین کپڑے لپیٹ لے کیوں کہ باریک کپڑاہوگاتوپانی سے بدن پرچِپک جا ئے گا اور مَعَاذَاللہ عَزَّوَجَلَّ گُھٹنوں یارانوں وغیرہ کی رنگت ظاہر ہوگی ۔ عورت کو تو اور بھی زِیادہ احتیاط کی حاجت ہے ۔دَورانِ غسل کسی قسم کی گُفتگومت کیجئے، کوئی دُعا بھی نہ پڑھئے ، نہانے کے بعدتَولیے وغیرہ سے بدن پُونچھنے میں حَرَج نہیں ۔ نہا نے کے بعد فورًاکپڑے پہن لیجئے۔اگرمکروہ وقت نہ ہوتودو رَکعت نَفل اداکرنا مستحب ہے۔( عا لمگیری ج۱ص۱۴،ماخوذازبہارِ شریعت ج۱ص۳۱۹ وغیربحوالہ غسل کا طریقہ،ص۳)
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِىُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ قَالاَ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْتِىَ الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ
” حضرت عبد اللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب تم میں سے کوئی جمعہ (کی نماز) کے لیے آئے تو اسے چاہیے کہ غسل کرے۔ “
شریعت کی رو سے غسل سے مراد پاک پانی کا تمام ظاہری بدن پر خاص طریقے سے بہانا ہے۔ قرآن حکیم میں اللہ تعالٰیٰ نے فرمایا:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ۚ وَإِن كُنتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوا ۚ وَإِن كُنتُم مَّرْضَىٰ أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِّنكُم مِّنَ الْغَائِطِ أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُم مِّنْهُ ۚ مَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُم مِّنْ حَرَجٍ وَلَـٰكِن يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
اے ایمان والو! جب تم نماز کے لیے اٹھو تو اپنے منہ دھو لو اور ہاتھ کہنیوں تک اور اپنے سروں پر مسح کرو اور اپنے پاؤں ٹخنوں تک دھو لو اور اگر تم ناپاک ہو تو نہا لو اور اگرتم بیمار ہو یا سفر پر ہو یا کوئی تم میں سے جائے ضرور سے آیا ہو یا عورتوں کے پاس گئے ہو پھر تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کر لو اور اسے اپنے مونہوں او رہاتھوں پر مل لو الله تم پر تنگی کرنا نہیں چاہتا لیکن تمہیں پاک کرنا چاہتا ہے اور تاکہ اپنا احسان تم پر پورا کرے تاکہ تم شکر کرو
غسل کے 3 فرائض ہیں:
کلی کرنا
ناک میں پانی ڈالنا
پورے ظاہری بدن پر پانی بہانا۔
غسل کا مسنون طریقہ
ترميم
نیت کرے۔
بسم اللہ سے ابتدا کرے۔
دونوں ہاتھوں کو کلائییوں تک دھوئے۔
جسم پر جہاں کہیں نجاست(ناپاکی) لگی ہو اسے دھلے۔
پھر وضو کرے جس طرح نماز کے لیے کیا جاتا ہے اگر ایسی جگہ کھڑا ہے۔ جہاں پانی جمع ہو جاتا ہے تو پاؤں کو آخر میں غسل کے بعد دھوئے۔
تین بار سارے جسم پر پانی بہائے۔
پہلے دائیں کندھے کی طرف سے پانی بہائے۔
پھر بائیں کندھے کی طرف پانی بہانے کے بعد پورے بدن پر تین بار پانی ڈالے۔
وضو کرتے وقت اگر پاؤں نہیں دھوئے تھے تو اب دھو لے۔
غسل واجب کی صورت میں جسم پر لگی ہوئی نجاست کو پہلے دھونا سنت ہے۔
شاور، ٹوٹی، نل اور ٹب وغیرہ کے ذریعے غسل کرنے کے لیے پہلے اچھی طرح کلی کریں اور ناک میں نرم ہڈی تک پانی ڈالیں اور پھر پورے بدن پر کم از کم ایک مرتبہ اس طرح پانی بہائیں کہ بدن کا کوئی حصہ بال برابر بھی خشک نہ رہے تو غسل کے واجبات ادا ہو جائیں گے۔
تالاب یا نہر میں غسل کا طریقہ
ترميم
تالاب یا نہر میں غسل کا طریقہ
ترميم
تالاب، دریا یا نہر میں نہانے سے پہلے کلی کریں پھر ناک میں پانی ڈال کر خوب صاف کریں اور تھوڑی دیر اس میں ٹھہرنے سے غسل کی سب سنتیں ادا ہو جائیں گی۔ اور اگر تالاب اور حوض یعنی ٹھہرے ہوئے پانی میں نہائیں تو بدن کو تین بار حرکت دینے یا جگہ بدلنے سے غسل ہو جائے گا۔
سر کے بالوں کا دھونا
ترميم
اگر غسل کرنے والی عورت کے سر کے بالوں کو کھولے بغیر پانی سر کی جلد تک بخوبی پہنچ جائے تو اس کے لیے سر کے بالوں کو کھولنا ضروری نہیں۔ تاہم اگر گوندھے ہوئے بالوں کی تہ تک پانی نہ پہنچے تو پھر بالوں کا کھولنا واجب ہے۔
دوران غسل قرآنی آیات اور دعاؤں کا پڑھنا
ترميم
غسل کرتے ہوئے انسان بالعموم برہنہ ہوتا ہے اس لیے اس دوران قرآنی آیات یا دیگر کوئی دعا وغیرہ پڑھنا جائز نہیں یہاں تک کہ کوئی دنیوی کلام کرنا بھی منع ہے۔
غسل کے فرض ہونے کی صورت
ترميم
مباشرت کے دوران مرد کے ذکر کی ٹوپی عورت کی فرج میں داخل ہونے سے مرد اور عورت دونوں پر غسل فرض ہو جاتا ہے، خواہ انزال ہو یا نہ ہو۔
احتلام کی صورت میں غسل واجب ہو جاتا ہے۔
عورت حیض اور نفاس سے فارغ ہو تو اس پر غسل فرض ہے۔
مباشرت کے علاوہ کسی بھی دوسرے طریقے سے شہوت حاصل کرتے ہوئے انزال ہو جائے تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔
اگر شہوت کے علاوہ کسی دوسری وجہ مثلا محنت و مشقت یا کسی بیماری کی وجہ سے انزال ہو جائے تو غسل واجب نہیں، التبہ اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔
اگر پتلی منی پیشاب کے ساتھ بغیر شہوت کے نکلی تو غسل فرض نہیں۔
سو کر اٹھنے کے بعد کپڑوں پر کچھ نشانات پائے گئے تو اس پر غسل کی چند صورتیں ہیں:
اگر اس کے ودی یا مذی دونوں میں سے ایک کے ہونے کا یقین یا اِحتمال ہو تو غسل واجب نہیں۔
اگر یقین ہے کہ منی یا مذی نہیں کچھ اور ہے تو غسل واجب نہیں۔
اگر منی ہونے کا یقین ہے مگر مذی کا شک ہے اور اگر خواب میں احتلام ہونا یاد نہیں تو غسل ضروری نہیں ورنہ ہے۔
EmoticonEmoticon